17 جولائی 2010 - 19:30

مجلس اعلاے اسلامی عراق کے سربراہ سید عمار حکیم نےاپنے دورہ سعودی عرب کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاہے کہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے آیت اللہ العظمی سیستانی کے کردار کو سراہا ہے۔

سید عمار حکیم نے بغداد میں عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزنے ان سے کہا کہ آيت اللہ سیستانی کی شخصیت عراق میں امن وسلامتی کا ضامن ہے ۔ یاد رہے سعودی عرب کے بادشاہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب محمد العریفی نے حال ہی میں خطبہ جمعہ میں آيت اللہ سیسانی کی شان میں گستاخی کی تھی اور شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دیا تھا۔ العریفی نے اپنے اس گھناونے اور شرمناک اقدام سے اھل بیت عصت وطہارت علیھم السلام کے پیروکاروں کےخلاف وہابی فرقے کی شدید دشمنی کا اظہار کیا تھا۔ 

گو کہ العریفی کے ایک صوتی کلپ سے ظاہر ہوا کہ انھوں نے اپنے اس گھناؤنے جرم سے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے شیعہ علماء کو برتر و بہتر قرار دیا ہے لیکن ایک سعودی روزنامے نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا که العریفی آیت اللہ سیستانی کے خلاف اپنے موقف سے پسپا نہیں ہوئے ہیں تا ہم العریفی نے بذات خود اس کلپ کے بارے میں ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے اور اس خبر کی تردید نہیں کی ہے۔

.........

/110

بشکریہ از ریڈیو تہران